Playing settingsGuitar · Original key
Rhythm & accompaniment
VERSE
لے آ گیا پھر تیرے دروادے کہ برسات سے بچنے کا اور بحانہ نہ ملا باہیں تیری گھر سے لگی اور اس دل کو کوئی ٹھکانہ نہ ملا
| Bm | D | Em | F#m7 |
| F#m7 | Bm | D |
CHORUS
اشاروں اشاروں میں بات سمجھ لینا
سے پہلے آج پکڑ لینا کہ شرابے ختم دی سارے زخم تیرے
بھر نہ سکے سونے آن ہونا راتے ختم کہ سلا دے سنم مجھے باہوں میں میرا ایک جان
گئی ایک جاتی نہیں ایک اور ستم نہ کر جسے پاکنا تھا اسے خوب بیٹھے یہ کافی
VERSE
کہ اب کچھ حوش نہیں ہے تُو مجھ کو پلا
دے گی کیا میں پی کر جو بھی کہوں گا
تُو سب ہاں بلا دے گی کیا تُو باہوں میں
رکھ لے دو پل پھر چاہے دور ہٹا دے
CHORUS
میں گود میں رکھنوں اگر سر سو مجھ کو سلا دیگی کیا جاتی نہیں تیری یاد قسم سے کہ
دل کا بھرم ہے تو باقی نہیں اب کوئی شرم جانا ایک دھرم ہے تو جو
کہتی تھی مت پیونا میری جان زہر ہے یہ اسے دیکھتا
ہوں کوئی غیر چھوئے اب اور
| Em | F#m | Bm |
| F#m | Bm |
OUTRO
How would you rate this song?